Pakistan Cricket Board (PCB) is trying his best to complete Pakistan Super League (PSL) .

PSL 6 Is Going To UAE

پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے پی ایس ایل کو مکمل کروانا سر درد بن گیا ہے۔ پہلے تو پی ایس ایل کے بقیہ میچز کراچی میں کروانے کا پلان تھا جو کہ پی سی بی کے لیے ایک آسان راستہ تھا لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ سے این سی او سی نے کراچی میں میچز کروانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) متحدہ عرب امارات میں  مکمل کروانے کا پلان بنا یا جس کے لیے پی سی بی نے عید الفطر سے پہلے سی یو اے ای حکام سے باقاعدہ اجازت طلب کی تھی لیکن عید کی تعطیلات کی وجہ سے اس وقت جواب موصول نہیں ہو سکا ۔ لیکن اب عید کی تعطیلات ختم ہوئے بھی دو دن گزر چکے ہیں لیکن تا حال پی ایس ایل کے میزبان کا فیصلہ نہیں ہو سکا کیونکہ یو اے ای حکام سے جواب کا انتظار طول پکڑتا جا رہا ہے ۔ اگر چہ کے دفاتر کھل چکے ہیں لیکن اس کے باوجود صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔ دوسری طرف پی سی بی کا وفد یو اے ای میں  ہی موجود ہے اور اپنی کوششوں میں  مصروف ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ اتوار تک متوقع تھا لیکن دو دن لیٹ ہو جانے کے باوجود فوری طور پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔ یو اے ای میں موجود پی سی بی کے وفد نے اپنے طور پر ایونٹ کے حوالے سے اپنی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اور یو اے ای کے حکام سے  ویزوں کے اجراء کے حوالے سے بات چیت بھی شروع کر دی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہوٹل بکنگ کے لیے بھی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

Pakistan Cricket Board (PCB) 
پاکستان کرکٹ کے بورڈ چونکہ جون کے اوائل میں پی ایس  ایل کے بقیہ میچز کا انعقاد کرنا چاہتاہے  اس لیے پی ایس ایل میں شامل کھلاڑیوں کے لیے بھی کافی پریشان کن صورت حال ہے  ۔ کیونکہ مختلف ممالک سے کھلاڑیوں نے شرکت کے لیے آنا ہے اور قرنطینہ بھی ہونا ہے اتنے کم وقت میں یہ تمام امور مکمل ہو جانا کافی مشکل ہو گا۔

Dubai Sport City Cricket Stadium UAE
 اب دیکھنا ہو گا کہ کب تک پاکستان کرکٹ بورڈ کو یو اے ای کی طرف سے گرین سنگنل ملتاہے ۔ اور اس کے بعد دستیاب وقت میں تمام امور  اور انتظامات کو مکمل کرنا پی سی بی حکام کے لیے ایک چیلنج ہو گا اور وقت بتائے گا کہ پی سی بی حکام اس چیلنج کو کس حد تک پورا کر پاتے ہیں۔ ہماری نیک تمنائیں پی سی بی اور پی ایس ایل حکام کے ساتھ ہیں کیوں جو بھی ہو یہ ٹورنامنٹ لازمی مکمل ہونا چاہیے بصورت دیگر اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان آ جائے گا
بقلم از خود آفتاب احمد۔

تبصرے

مشہور اشاعتیں