M.S.Dhoni
![]() |
| M.S.Dhoni,s finishing shot |
اگرچہ کہ بھارت کی کرکٹ کی ہسٹری بہت شاندار ہے اور اس میں بہت سے مایہ ناز کھلاڑی اور کپتا نوں کا کردار نمایا ں رہا ہے۔ لیکن شاید ان سب میں کامیاب ترین کپتان بھارت کے وکٹ کیپر بیٹسمین اور کپتان مہندرا سنگھ دھونی ہیں۔ بھارتی ٹیم کا کپتان رہتے ہوئے دھونی نے جو کیا وہ دنیا کا کوئی اور کپتان نہیں کر پایا۔ دھونی دنیا کے اکلوتے ایسے کپتان ہیں جنہوں نے اپنی ٹیم کوآئی سی سی کی تینوں ٹروفیز پر قبضہ کروایا۔ اسکے علاوہ ٹیسٹ میچوں میں بھارت پہلی بار نمبر 1 کی پوزیشن پر دھونی کی کپتانی میں ہی پہنچا تھا۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کو دھونی کے ایسے قصوں کے بارے میں بتائیں گے جن کے بارے میں آپ کو شاید ہی پتہ ہو گا۔
پہلا قصہ ہے بی سی سی آئی کے مشہور پریزیڈنٹ اور چنائی سپر کنگز کے مالک این شری نواسن سے جڑا
ہوا۔ یہ قصہ اس وقت کا ہے جب این شری نواسن
بی سی سی آئی کے پریزیڈنٹ ہوا کرتے تھے۔
اس وقت شری نواسن نے دھونی سے رابطہ میں رہنے کے لیے انہیں اپنا پرائیویٹ
نمبر دیا ہوا تھا تاکہ وہ جب چاہیں
دھونی سے بات کر سکیں ۔لیکن دھونی
فون کالز کے جواب نہیں دینے کیلیے مشہور
تھے ۔ جس کے لیے انہیں کئی بار مصیبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔دھونی کے قریبی
انکی اس عادت سے پریشان تھے لیکن شری نواسن کو دھونی کی اس عادت کا ذرا بھی علم نہیں
تھا اور جب بھی وہ دھونی کو فون ملاتے تھے دھونی ان کے فون کا جواب نہیں دیتے تھے۔ اس کی وجہ سے شر ی نواسن
کو اکثر دھونی سے بات سریش رائنا کے ذریعے
کرنی پڑ تی تھی ۔

Dhoni with his wife and daughtar
ایسا ہی قصہ 2015 میں بھی سامنے آیاتھا جب دھونی کی بیٹی جیوا کی پیدائش ہوئی تھی۔ دھونی اس وقت
آسٹریلیا میں 2015 کے ورلڈ کپ کی تیاری میں مگن تھے۔ جیوا
کے پیدا ہونے کی خوشخبری دینے کے
لیے جب ساکشی نے انہیں فون کیا تو دھونی
نے ان کے فون کا بھی جواب نہیں دیا۔ جس کے
بعد ساکشی کو سریش رائنا کے ذریعے یہ خوشخبری دھونی تک پہنچانی پڑی تھی۔
دھونی سے جڑا ایک اور دلچسپ قصہ سال 2007 کا ہے جب انہیں انڈین ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا۔ اس
وقت ٹیم کے ہیڈ کوچ دلپ وینسرکر تھے۔ وینسر کر اس وقت تک دھونی کو اچھے طریقے سے
زیادہ نہیں جانتے تھے ۔دھونی کو ٹیم کا کپتان بنانے کے بعد وینسرکر دھونی کے ساتھ ممبئی لوٹ رہے تھے ۔
وینسرکر نے سوچا تھا کہ کلکتہ سے ممبئی
پہنچنے میں ڈھائی گھنٹے لگیں گےاور تب تک انکی دھونی سے بات بھی ہو جائے گی لیکن
فلائٹ میں بیٹھنے کے بعد جو ہوا وہ وینسرکر نے سوچا ہی نہیں تھا۔ فلائٹ ٹیک آف
کرتے ہی دھونی سو گئے اور پھر ممبئی
پہنچنے کے بعد ہی انہوں نے آنکھیں کھولیں ۔ جس کی وجہ سے وینسرکر دھونی سے کو ئی
بات نہیں کر پائے۔

Dhoni with his long hair at the start of his career
دھونی نے جب انٹر
نیشنل کرکٹ میں قدم رکھا اس وقت ان کے بال بہت بڑے بڑے تھے وہ کرکٹر کم اور ایک
ماڈل زیادہ لگتے تھے۔جب وہ بھارتی ٹیم کے ساتھ پہلی مرتبہ پاکستانی دورے پر آۓ ایک میچ کے بعد اس کے وقت کے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشروف نے بھی ان کے
بالوں کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ آپ کے بال بہت اچھے ہیں آپ بال نا کٹوانا لیکن پتا نہیں نا جانے کیوں
دھونی نے اپنا ہیئر سٹائل تبدیل کر دیا اور با ل کٹوا لیے اور چھوٹے بال رکھ لیا۔

Dhoni,s collection of heavy bikes
اس کے علاوہ مہندراسنگھ دھونی کو ہیوئ بائیک کا بھی بہت
زیادہ شوق ہے ان کے پاس مختلف اقسام کی بیشمار ہیو ئی بائکس ہیں شاید ہی اور کسی
کرکٹر کے پاس اس طرح کی اتنی زیادہ بائیکس موجود ہوں۔
تو یہ تھے دھونی کے
متعلق کچھ دلچسپ قصے۔




A great personality in cricket world
جواب دیںحذف کریں